Monday, 19 December 2016

اس کا تو کام ہے زخموں کی تجارت کرنا

اس کا تو کام ہے زخموں کی تجارت کرنا
اس کو آتا ہی نہیں دل پہ عنایت کرنا
ہم ہی فرہاد ہیں مہوال بھی ہیں رانجھا بھی
ہم سے سیکھا ہے زمانے نے محبت کرنا
یاد پردیس میں آتی ہے مجھے اس کی ادا
بھیگی آنکھوں سے مجھے دیکھ کے رخصت کرنا
گردشِ وقت نے بچوں کے وہ دن لُوٹ لیے
کھیلنا، ہنسنا، مچل جانا، شرارت کرنا
اس کو بھی یاد کِیا کرتے زمانے والے
سیکھ لیتا وہ اگر سب سے محبت کرنا

ضیا علوی

No comments:

Post a Comment