اس کا تو کام ہے زخموں کی تجارت کرنا
اس کو آتا ہی نہیں دل پہ عنایت کرنا
ہم ہی فرہاد ہیں مہوال بھی ہیں رانجھا بھی
ہم سے سیکھا ہے زمانے نے محبت کرنا
یاد پردیس میں آتی ہے مجھے اس کی ادا
گردشِ وقت نے بچوں کے وہ دن لُوٹ لیے
کھیلنا، ہنسنا، مچل جانا، شرارت کرنا
اس کو بھی یاد کِیا کرتے زمانے والے
سیکھ لیتا وہ اگر سب سے محبت کرنا
ضیا علوی
No comments:
Post a Comment