Friday, 16 December 2016

ہو گئی پھول سے جدا خوشبو

ہو گئی پھول سے جدا خوشبو
چند لمحوں میں تھی ہوا خوشبو
رات کو خواب کے جھروکوں سے
جھانکتی ہے اک آشنا خوشبو
چھیڑ پھر کوئی دل نشیں نغمہ
اپنی آواز کی سنا خوشبو
زلف کے ساتھ کھل رہی ہے قبا
اب منائے گی رت جگا خوشبو
پھول کی ہو سکی نہ عمر دراز
مانگتی رہ گئی دعا خوشبو
مدھ بھرے نین سے کوئی تشنہؔ
آج مجھ کو پلا گیا خوشبو

عالم تاب تشنہ

No comments:

Post a Comment