ہو گئی پھول سے جدا خوشبو
چند لمحوں میں تھی ہوا خوشبو
رات کو خواب کے جھروکوں سے
جھانکتی ہے اک آشنا خوشبو
چھیڑ پھر کوئی دل نشیں نغمہ
زلف کے ساتھ کھل رہی ہے قبا
اب منائے گی رت جگا خوشبو
پھول کی ہو سکی نہ عمر دراز
مانگتی رہ گئی دعا خوشبو
مدھ بھرے نین سے کوئی تشنہؔ
آج مجھ کو پلا گیا خوشبو
عالم تاب تشنہ
No comments:
Post a Comment