Saturday, 3 December 2016

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
میرے کام کچھ نہ آیا، یہ کمال نے نوازی
میں کہاں ہوں تُو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے
یہ جہاں مِرا جہاں ہے، کہ تِری کرشمہ سازی
اسی کشمکش میں گزریں مِری زندگی کی راتیں
ؔکبھی سوز و ساز رومؔی، کبھی پیج و تاب رازی
وہ فریب خُوردہ شاہیں، کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہِ و رسمِ شاہبازی
نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی
نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کے تیغ بازی، وہ نگہ کے تیغ بازی
کوئی کارواں سے ٹوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی

علامہ محمد اقبال

بال جبریل

No comments:

Post a Comment