مجھ سے بھی ہے پوشیدہ کیا بات مِرے دل میں
اک درد سا اٹھتا ہے ہر رات مرے دل میں
ہر شام امڈتے ہیں یادوں کے گھنے بادل
ہر رات سلگتی ہے برسات مرے دل میں
پھر چھیڑ دیا کس نے احساس کے تاروں کو
چھا جاتی ہے راتوں میں جب شہر پہ خاموشی
اک یاد کا بستا ہے دیہات مرے دل میں
احساس کی حِدت سے تپتا ہے بدن میرا
بھڑکاتے ہیں شعلے سے جذبات مرے دل میں
کچھ پھیل کے صدیوں کی تاریخ بنے شاہدؔ
کچھ اب بھی مقید ہیں لمحات مرے دل میں
شاہد ماہلی
No comments:
Post a Comment