سر ٹکرانا سیکھا ہے دیواروں سے
زخم ملے ہیں ہم کو اپنے پیاروں سے
ماں آخر ہم کب گھر واپس جائیں گے
بچہ پوچھتا ہے معصوم اشاروں سے
تیز ہوا میں پتا شاخ سے ٹوٹا ہے
میرا دل اک ایسی خیمہ بستی ہے
جس کی گلیاں روشن ہیں انگاروں سے
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment