اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے
دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے
زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر
یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے
چشموں کو شکایت ہے کہ شعلوں میں گھِرے ہیں
خوں رنگ، شفق رنگ، خزاں رنگ ہیں چہرے
جسموں پہ کفن ہے نہ کوئی سرخ قبا ہے
اب نجد کے صحرا میں نہ کانٹے نہ صدائیں
اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے
سقراط تہِ خاک یہی سوچ رہا ہے
اب زہر فقط پیاس بجھانے کی دوا ہے
شمیم حنفی
No comments:
Post a Comment