پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں
اک دور کنارا ہے، وہیں جا کے رکیں گے
جتنے بھی یہاں گھر ہیں ٹھکانے کے نہیں ہیں
دل ہے تو یہ دولت کبھی معدوم نہ ہو گی
ہر سمت اجالا بھی ہے، سورج بھی ہے لیکن
ہم اپنے چراغوں کو بجھانے کے نہیں ہیں
دنیا نے بھی کچھ ہم کو بہت گھیر لیا ہے
کچھ ہم بھی اسے چھوڑ کے جانے کے نہیں ہیں
شمیم حنفی
No comments:
Post a Comment