کبھی جو دیکھ سکو دل کا آئینہ دیکھو
گناہ گار ہو تم، یا کہ پارسا دیکھو
کہیں پہ تیغ و تبر اور کہیں چلے پتھر
ہر ایک سمت ہے جنگوں کا سلسلہ دیکھو
مجھے بچاؤ گے تم حادثات سے کب تک
ابھی تو سنتے ہی تھے ذکرِ کارزارِ فرات
اب اپنے دور کا میدانِ کربلا دیکھو
امید ہو گی تبھی پیار کے اجالے کی
جب اپنے خون سے جلتا ہوا دِیا دیکھو
ضیاؔ ادھر سے نہ مایوس ہو کے لوٹ آنا
یقین ہے کہ وہ دیکھے گا راستہ دیکھو
ضیا علوی
No comments:
Post a Comment