Friday, 15 January 2021

کسی کو عشق ہو ہم سے تو بے تحاشا ہو

 وہ چاہے جو بھی ہو جیسا بھی ہو جہاں کا ہو

کسی کو عشق ہو ہم سے تو بے تحاشا ہو

تِرے سوا ہمیں کوئی سمجھ نہیں سکتا

سو ہم کو ضد ہے کہ ہر شخص تیرے جیسا ہو 

میں جانتا ہوں کہ تجھ کو حسین سمجھے گا

وہ شخص جس نے تجھے غور سے نہ دیکھا ہو

وہ رات جس کی طرف میں پلٹ کے دیکھتا ہوں

نہ جانے کب مجھے اسی کی سمت جانا ہو 


تصنیف حیدر

No comments:

Post a Comment