Thursday, 14 January 2021

نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے

 نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے

عجب لڑکی ہے جب دیکھو خفا ہے

بہ ظاہر ہے اسے بھی پیار ویسے

دلوں کے بھید سے واقف خدا ہے

یہ تنہائی کا کالا سرد پتھر

اسی سے عمر بھر سر پھوڑنا ہے

مگر اک بات دونوں جانتے ہیں

نہ کچھ اس نے نہ کچھ ہم نے کہا ہے

نہیں ممکن اگر ساتھ عمر بھر کا

یہ پل دو پل کا ملنا کیا برا ہے

گھنے جنگل میں جیسے شام اترے

کوئی یوں جعفری یاد آ رہا ہے


فضیل جعفری

No comments:

Post a Comment