Wednesday, 6 January 2021

شرارہ کوئی خار و خس میں نہیں ہے

 شرارہ کوئی خار و خس میں نہیں ہے

تڑپ زندگی کی نفس میں نہیں ہے

جو لہرا کے اٹھی ہے مقتل میں ہر سُو

وہ خوشبو گلابوں کے رَس میں نہیں ہے

مِرے گھر میں ہے موت کا آنا جانا

مِری سانس بھی میرے بس میں نہیں ہے

یہ فرمان ہے اہلِ فکر و نظر کا

محبت کی دولت ہوس میں نہیں ہے

خضر بھی گریزاں ہے عزمِ سفر سے

کشش بھی صدائے جرس میں نہیں ہے

وہ کیا ظلمتوں میں اجالے کریں گے

یہ بجھتے چراغوں کے بس میں نہیں ہے

چمن خور پیڑوں کو جو کاٹ پھینکے

وہ تیشہ مِری دسترس میں نہیں ہے


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment