Thursday, 14 January 2021

دھوپ سے چاندنی بناتا ہوں

 دھوپ سے چاندنی بناتا ہوں

آنسوؤں سے ہنسی بناتا ہوں

رات کی کھینچتا ہوں تصویریں

چاند سے شاعری بناتا ہوں

اور اس ہجر کے سمندر میں

وصل کی جل پری بناتا ہوں

کر رہا ہوں میں ایک پھول پہ کام

روز اک پنکھڑی بناتا ہوں

میں وہ پاگل ہوں جاتے لمحے سے

آنے والی صدی بناتا ہوں

پوچھتے کیا ہو اپنے آپ کو میں

روز ہی آدمی بناتا ہوں

مجھ سے شکوہ تو ایسے کرتے ہو

جیسے، میں زندگی بناتا ہوں

برسوں پہلے بنا رہا تھا جو شے

میں تو اب تک وہی بناتا ہوں


اکبر معصوم

No comments:

Post a Comment