سنتا ہوں میرا رنگ بھی یکسر بدل گیا
تُو بھی تو میرے شہر میں آ کر بدل گیا
موسم مِری حیات کا ٹھہرا ہوا ہے بس
اک شخص دھوپ چھاؤں کا منظر بدل گیا
کلیوں کو اپنے سر تلے دیکھا تو ڈر گیا
یوں کیسے مجھ غریب کا بستر بدل گیا
محفل میں آج اس کی بھی آنکھوں میں خون تھا
دیکھا تو لگ رہا تھا وہ پتھر بدل گیا
دل سے نکال کر سبھی رکھے ہیں ذہن میں
رنج و الم کا دوستا!! دفتر بدل گیا
جو سرفراز سر تھا وہی جھک گیا ہے یار
یا رب یہ سر کٹے کہ مِرا سر بدل گیا
کہتے ہیں سارے لوگ دہر اب کیوں آئے ہو
اس گھر کا جو مقیم تھا وہ گھر بدل گیا
دہر کاظمی
No comments:
Post a Comment