ہجر کی شام، اور تنہائی
دل جو رویا تو آنکھ بھر آئی
مِینہ برسنے لگا ہے طوفاں میں
میری کھڑکی سے بُوند ٹکرائی
آج بادل گرج کے برسیں گے
آج خوشبو نے آگ دہکائی
آج کھڑکی یہ بھیگ کر بولی
سرد ہے کس قدر یہ پُروائی
دُھند سی چھا گئی ہے کھڑکی پر
تیز بارِش نے زلف لہرائی
بھیگ کر سامنے کھڑی ڈالی
آنکھوں آنکھوں میں مجھ سے شرمائی
اک پسینہ جو آ گیا مجھ پر
یاد سجنی کی آج گھبرائی
جس قدر سرد یہ دسمبر ہے
عشق نے کھُل کے لی ہے انگڑائی
دل سمندر ہے عشق آتش کا
کون ناپے گا اس کی گہرائی
دل کی باتیں سعید دل میں رکھ
ظرفِ دنیا ہے بس تماشائی
کامران سعید خان
No comments:
Post a Comment