رواں ہیں کشتیاں، ملاح گیت گاتے ہیں
ندی پہ بچھڑے ہوئے لوگ یاد آتے ہیں
میں ان میں ایک ہوں ٹوٹے ہوئے پروں والا
پرندے اڑتے ہیں، میرا مذاق اڑاتے ہیں
چمکتے پھولوں سے بھرتے ہیں اپنی جھولیاں ہم
وہ نخلِ نُور کی جب ٹہنیاں ہِلاتے ہیں
تم اپنے دل کی رصد گاہ سے ہمیں دیکھو
یہ ہم جو دور کے بُرجوں میں ٹمٹماتے ہیں
اِدھر اُدھر کی بہت سن سنا چکے شاہد
دوبارہ اپنی حکایت کی جانب آتے ہیں
شاہد ماکلی
No comments:
Post a Comment