Monday, 15 March 2021

بجھائی آگ تو روشن ہوا دھواں سا کچھ

 بجھائی آگ تو روشن ہوا دھواں سا کچھ

ہمارے ہاتھ میں آیا ہے رائیگاں سا کچھ

قدم قدم پہ دھڑکتا ہے دل امیدوں کا

قدم قدم پہ ہے در پیش امتحاں سا کچھ

کہیں پہ نقص ملے اور کوئی بات بنے

وہ ڈھونڈتے ہیں مِرے سود میں زیاں سا کچھ

وہی تو بن گیا باعث گرانئ جاں کا

رکھا تھا گھر میں کہیں پر جو خانماں سا کچھ

اب اس کے بعد مکمل ہے داستان ہنر

ادھر ادھر میں بٹھایا ہے درمیاں سا کچھ

کوئی سراب نہیں ہے یہ میری خوش نظری

جو دشت میں نظر آتا ہے گلستاں سا کچھ

ہمارے نام وہ منسوب ہو گیا کیوں کر

زمیں پہ ٹوٹ پڑا تھا جو آسماں سا کچھ

اب اس کی شہر میں تشہیر کیوں کریں جا کر

ہوا ہے گاؤں میں اپنے جو ناگہاں سا کچھ


ہمدم کاشمیری

No comments:

Post a Comment