Wednesday, 6 October 2021

شاید آسمانوں سے اتری ہو

 تنہائی سے یکتائی تک


شاید آسمانوں سے اُتری ہو

سورج کی پُھوٹتی کِرنوں کے سنگ

کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہے

اپنے باغیچے کی گیلی گھاس پہ پھیلتے ہوئے

شاید گلی سے دُھول کی مانند

وہ اُڑ کر آئی ہو

کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہے

گاڑی کے شیشے پہ جمتے ہوئے

شاید وہ میرے گھر چُپکے سے آئی ہو

میری بلی کے نرم پنجوں سے چپک کر

کیونکہ میں نے اسے پایا ہے

میرے بستر کے پاس

مدھم سانس لیتے ہوئے

شاید وہ دنیا میں آئی ہو

میری جُڑواں بن کر

کیونکہ جو میری گلی سے گُزرتا ہے

وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے

بانہوں میں بانہیں ڈالے

چہل قدمی کرتے


سروش لطیف

اردو ترجمہ: نودان ناصر

No comments:

Post a Comment