کبھی نفی کبھی اثبات کر کے دیکھتے ہیں
ہم اپنے آپ کو اثبات کر کے دیکھتے ہیں
یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سی چلے گا چال
بساطِ عشق پہ شہ مات کر کے دیکھتے ہیں
انہیں ہماری محبت کا جب نہیں احساس
تو خود کو بے حسِ احساس کر کے دیکھتے ہیں
جو بات دل میں ہے ان کی زباں پہ آ جائے
کچھ ان سے ایسے سوالات کر کے دیکھتے ہیں
وہ جس کا سارے فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا
نعیم! آج وہی بات کر کے دیکھتے ہیں
نعیم! مصرعۂ برجستۂ فراز پڑھو
’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘
نعیم حامد
No comments:
Post a Comment