اردو کی نس بندی زعفرانی کلام
فیملی منصوبہ بندی کا کرشمہ دیکھ کر
بڑھتی آبادی گھٹانے کا یہ نسخہ دیکھ کر
قوم کو اردو کی نس بندی کا بھی آیا خیال
تا کہ رخصت ہو دلوں سے جلد یہ کافرِ جمال
مختلف ناموں سے نس بندی بھوَن کھولے گئے
کچھ تو پہلے سے ہی تھے کچھ دفعتاً کھولے گئے
سربراہوں میں کچھ اپنے بھی تھے کچھ اغیار بھی
مصلحت پیشہ بھی کچھ تھے ان میں کچھ خُونخوار بھی
فکرِ زنگ آلود سے نشتر زنی ہونے لگی
زخم اپنا، اپنے ہی خُوں سے زباں دھونے لگی
بعد آزادی تو یوں بھی تھی لبوں پر اس کے جاں
اک محقق نے کہا؛ اردو ہے تُرکوں کی زباں
یہ تو گُھس پیٹھی ہے بھارت ورش میں کیا اس کا کام
جلد دستورِ اساسی سے ہٹاؤ اس کا نام
غیر تو غیر ہیں اپنوں کا بھی سُنیے ماجرا
جن کے پنجوں میں بیچاری کا دبا ہے نرخرا
آئے نس بندی بھوَن کی سربراہی کے لیے
کھل گیا اک اور رستہ تانا شاہی کے لیے
جب سے اپنے شہر میں قائم ہُوا یہ ورکشاپ
پیر تسمہ پا کی صُورت ہیں مسلط اس پہ آپ
کیمپ میں رکھی گئی کچھ ایسے نس بندوں کی ٹیم
چند دن میں عطائی، چند کے جعلی حکیم
یوں غلط بخشی و حق تلفی کا گھن چکر چلا
سب کو یاد آیا پرانا قصّہ بندر بانٹ کا
مستند فن کار ہوں یا نو نہالانِ ادب
ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جا رہے ہیں سب کے سب
جی حضوری اور خوشامد کی تو سودا پٹ گیا
ورنہ نس بندی بھوَن سے رشتہ ناتا کٹ گیا
جیسے نادر شاہ نے لُوٹی تھی دِلی کی بہار
فن ہو یا فن کار ناقدری کے ہیں یوں ہی شکار
گر کسی نے کر دیا کچھ ان کی مرضی کے خلاف
غیر ممکن ہے کبھی کر دیں بڑے صاحب معاف
جو بجٹ رکھا گیا تھا خُوں چڑھانے کے لیے
یعنی اردو کو بچانے اور جِلانے کے لیے
بینک بیلنس اس رقم سے دن بدن بڑھتا گیا
شیر نے کھا کر جو چھوڑا گیدڑوں میں بٹ گیا
گُڑ کِھلانے سے اگر بیمار کا قصہ پاک ہو
اس کو ناحق زہر دےکر کیوں کیا جائے ہلاک
سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی دو ٹکڑے نہو
اس کو کہتے ہیں تدبر اے ادیبو! شاعرو
اس زبردستی کی نس بندی سے واہی عن قریب
جاں بحق تسلیم ہونے ہی کو ہے اردو غریب
رضا نقوی واہی
No comments:
Post a Comment