کیوں پریشاں اس قدر ہو روز محشر دیکھ کر
دل جلے خوش ہو رہے ہیں تم کو مضطر دیکھ کر
کیا کرے گا اے ستم گر! آپِ خنجر دیکھ کر
مرنے والے یونہی مر جائیں گے تیور دیکھ کر
ہم نشیں کہتے ہیں مجھ کو اس کے در پر
پانوں پھیلاتے ہیں اے گستاخ چادر دیکھ کر
جس نے ایام جنوں کاٹے ہوں زنجیروں کے ساتھ
پاؤں کیا پھیلائے وہ میدانِ محشر دیکھ کر
خوف ہے مجھ کو قیامت میں قیامت کر نہ دیں
فتنۂ محشر کو وہ اپنے برابر دیکھ کر
خوش ہوا تھا توڑ کر اپنے قفس کی تیلیاں
ہائے کہہ کر رہ گیا ٹوٹے ہوئے پر دیکھ کر
میں یہ سمجھا تھا کہ کچھ تسکین ہو گی قلب کو
عشق دُونا ہو گیا ان کو مکرر دیکھ کر
بزم سے اس شوخ کی اغیار چپکے اٹھ گئے
حضرتِ گستاخ کو آمادۂ حشر دیکھ کر
گستاخ رامپوری
No comments:
Post a Comment