منو بھائی
منو بھائی 6 فروری 1933 میں وزیرآباد، گجرانوالہ، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے، ان کا اصل پیدائشی نام منیر احمد قریشی تھا، آپ کے والد کا نام محمد عظیم قریشی تھا۔ آپ کے دادا میاں غلام حیدر قریشی مذہبی شخصیت تھے، جو امام مسجد ہونے کے ساتھ پنجابی میں شاعری بھی کرتے تھے۔ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی منو بھائی کے ماموں تھے، گویا شعری شغف خاندان میں پایا جاتا تھا۔ منو بھائی نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیرآباد سے حاصل کی، چونکہ آپ کے والد ریلوے میں ملازمت کرتے تھے یوں ان کی نوکری کبھی کہیں تو کبھی کہیں اور مقرر رہتی تھے۔ چوتھی سے نویں تک تعلیم بھکر کلورکوٹ سے حاصل کی۔ 1947 میں میٹرک پاس کرنے کے بعد آپ مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج کیمبلپور ( موجودہ اٹک) آ گئے، جہاں غلام جیلانی برق، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان اور مختار صدیقی جیسے جید اساتذہ کی صحبت نے ان کے ادبی زندگی کو مزید جلا بخشی اور ان کی پنجابی شاعری میں اعلیٰ نکھار پیدا ہو گیا۔ منو بھائی بلاشبہ علمی، ادبی، فکری اور تخلیقی ورثے کا ایک بہتا دریا تھے۔ صافت اور ادب کے ساتھ ساتھ تھیلاسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خاص طور پر ان کی سماجی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ منو بھائی نے 19 جنوری 2018 کو اس جہاں فانی کو الوداع کہا، ان کی نماز جنازہ ریواز گارڈن لاہور میں ادا کی گئی اور انہیں میانی صاحب کے تاریخی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
اعزازات
منو بھائی کو دو بار سرکاری اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، پہلے 2007 میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور دوسری بار 23 مارچ 2018 ہلال امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
صحافتی خدمات
منو بھائی شروع سے ہی انقلابی ذہنیت رکھتے تھے، دور طالب علمی میں سیاست میں سرگرم ہونے کی وجہ سے انہیں کالج سے نکال دیا گیا، جس کی وجہ سے آپ بی اے کا تعلیمی سال مکمل نہ کر سکے۔ کالج سے فراغت کے بعد منو بھائی نے راولپنڈی میں بشیرالاسلام عثمانی کے اخبار ’’تعمیر‘‘ میں پچاس روپے ماہوار پر مترجم کی نوکری سے شروعات کی، اس کے کچھ عرصہ کے بعد آپ نے باقاعدہ صحافت بھی شروع کی اور ’’اوٹ پٹانگ‘‘ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا۔ منو بھائی کے ساتھ شفقت تنویر مرزا بھی اسی اخبار سے منسلک تھے اور کچھ عرصہ بعد فتح محمد ملک نے بھی اسی اخبار میں شمولیت اختیار کر لی۔ اسی دور میں منو بھائی نے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ایک نظم چھپنے کے لیے بھیجی، جس سے متاثر ہو کر اخبار کے مدیر احمد ندیم قاسمی نے آپ کو ’’منو بھائی‘‘ کا قلمی نام دیا جو دورِ حیات کے ساتھ ساتھ بعد از مرگ بھی ان کی پہچان کر رہ گیا۔ قاسمی صاحب کی ایماء پر منو بھائی نے ’’امروز‘‘ کو جوائن کر لیا۔ دوسری صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ آپ نے ’’گریبان‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے۔ حکومت سے صحافیوں کے معاوضے کے جھگڑے پر انقلابی ذہن رکھنے والے منو بھائی کا تبادلہ سزا کے طور پر روزنامہ ’’امروز‘‘ ملتان میں کر دیا گیا۔ منو بھائی کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ’’مساوات میں لے آئے، جہاں 7 جولائی 1970 کو ’’مساوات‘‘ میں ان کا پہلا کالم چھپا۔ منو بھائی روزنامہ مساوات سے علیحدگی کے بعد ایک طویل عرصے تک روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور سے بطور کالم نگار اور رپورٹر کے طور پر منسلک رہے۔
ڈرامہ نگاری
بلاشبہ منو بھائی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک شخصیت تھے، آپ نے ڈراما نگاری میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ان کو ڈرامہ کی دنیا میں متعارف کروانے والے شخصیت کا نام اسلم اظہر تھا، ان کے کہنے پر منو بھائی نے سب سے پہلے جنگ ستمبر 1965 کی جنگ کے موضوع پر ایک شاہکار ڈرامہ ’’پل شیر خان‘‘ تخلیق کیا، جسے عوام نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، آشیانہ، جھوک سیال، دشت، جزیرہ، پلیٹ فارم، ابابیل، خوبصورت، گمشدہ اور عجائب گھر جیسے شاہکار ڈرامے تخلیق کیے۔ پی ٹی وی لاہور سینٹر سے گلی محلے کے عام سے کرداروں پر مشتمل ان کا پنجابی سلسلے وار کھیل ’’کیہ جاناں میں کون‘‘ زمانے بھر میں مقبولِ عام رہا ہے۔ منو بھائی نے عام زندگی کی طرح اپنے ڈراموں میں بھی ورکنگ کلاس کے لوگوں کے حالات زندگی اور خانگی مسائل کو بخوبی آشکارا کیا ہے۔
کتاب دوست
منو بھائی کا اپنا ایک ذاتی کتب خانہ بھی تھا، جسے انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا۔ جس میں کل مل کر 145،464 کتابیں تھیں جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی لائیبریری کا حصہ بنیں۔ میری نظر میں منو بھائی کی کتب کا عطیہ صدقۂ جاریہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جس سے موجودہ اور آنے والی کئی نسلیں سیراب ہوں گی۔
شاعری
منو بھائی نے پنجابی زبان میں باواعدہ شاعری کی، لیکن ان کے نزدیک پنجابی زبان میں بحر سے زیادہ لہر ہوتی ہے، اس لیے وہ پنجابی کو نسبت بہتر اظہار کا ذریعہ سمجھتے تھے، اسی لیے ان کی کہی گئی پنجابی نظموں کو زیادہ شہرت و مقبولیت ملی۔ منو بھائی نے نزار قبانی کی لبنانی/عربی زبان کی شاعری کاترجمہ باقاعدہ اردو شاعری کی صورت میں کیا ہے۔
منو بھائی کی تصنیفات
اجے قیامت نئیں آئی (پنجابی شاعری)*
محبت کی ایک سو ایک نظمیں (نزار قبانی کی شاعری کا اردو ترجمہ)*
انسانی منظر نامہ (اردو تراجم)*
جنگل اداس ہے (منتخب کالم)*
فلسطین فلسطین*
گریبان (منتخب کالم)*
بوند بوند*
قطرے میں دریا*
جزیرہ (ڈرامہ)*
نمونۂ پنجابی کلام
وال ودھا لے رانجھے نے تے ٹنڈ کرا لئی ہیراں نے
مرزے خاں نال دھوکہ کیتا اوہدے اپنے تیراں نے
میٹر لا کے خوب چلائی صاحباں اودیاں ویراں نے
پر اجے قیامت نہیں آئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اوہ وی خُوب دیہاڑے سَن
بُھکھ لگدی سی
مَنگ لَیندے ساں
مِل جاندا سی
کھا لَیندے ساں
نئیں مِلدا سی
تے رو پیندے ساں
روندے روندے سَوں رہندے ساں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دِیوا آس دا بَلے ہنیریاں وِچ
نوِیں فجر دا سانوں یقین دیوے
کُجھ رحمتاں عرش دی مہربانی
کُجھ نعمتاں سانوں زمین دیوے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اردو نمونۂ کلام
تمہارا حسن میری دیوانگی
روشنی چراغ سے زیادہ اہم ہوتی ہے
نظم کتاب سے زیادہ اہم ہوتی ہے
بوسہ ہونٹوں سے زیادہ اہم ہوتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں نے دنیا بھر کے بچوں کو سکھائے
تمہارے نام کے ہجے
اور ان کے ہونٹ
چیری کے درختوں میں تبدیل ہو گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment