عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
بدن میں موجۂ خوشبوئے عود ٹھہرا ہے
زباں کا جب سے وظیفہ، درود ٹھہرا ہے
درودِ پاکﷺ کا دل بیعتی ہوا جب سے
ہنر میں اک ملکوتی سرور ٹھہرا ہے
رچی ہے خون میں ’صلِّ علیٰ‘ کی سرشاری
رگوں میں نشۂ جذبِ درودﷺ ٹھہرا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
بدن میں موجۂ خوشبوئے عود ٹھہرا ہے
زباں کا جب سے وظیفہ، درود ٹھہرا ہے
درودِ پاکﷺ کا دل بیعتی ہوا جب سے
ہنر میں اک ملکوتی سرور ٹھہرا ہے
رچی ہے خون میں ’صلِّ علیٰ‘ کی سرشاری
رگوں میں نشۂ جذبِ درودﷺ ٹھہرا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سو بسو تذکرے اے میرِؐ امم تیرےﷺ ہیں
اوجِ قوسین پہ ضو ریز علم تیرےﷺ ہیں
وقت اور فاصلے کو بھی تری رحمت ہے محیط
سب زمانے تِرے، موجود و عدم تیرےﷺ ہیں
جیسے تارے ہوں سرِ کاہکشاں جلوہ فشاں
عرصۂ زیست میں یوں نقشِ قدم تیرےﷺ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گلزارِ مدینہ صلِ علیٰ، رحمت کی گھٹا سبحان اللہ
پُر نُور فضا ماشااللہ،۔ پُر کیف ہوا سبحان اللہ
اُس زلفِ معنبر کو چُھو کر مہکاتی ہوئی، اِتراتی ہوئی
لائی ہے پیامِ تازہ کوئی،۔ آئی ہے صبا سبحان اللہ
والشمس جمالِ ہوش ربا،۔ زلفیں وَالیلِ اِذا یَغشٰی
القابِ سیادت قرآں میں، یٰسیں، طٰحہٰ سبحان اللہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دینِ حق کے رہبر تمؐ پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشرﷺ تمؐ پر سلام ہر دم
اِس بے کس و حزیں پر جو کچھ گزر رہی ہے
ظاہر ہے سب وہ تمؐ پر، تمؐ پر سلام ہر دم
دنیا و آخرت میں جب میں رہوں سلامت
پیارے پڑھوں نہ کیوں کر تمؐ پر سلام ہر دم
قرطاس ہو سفید تو ہوتے ہیں یہ سیاہ
کیونکر بنیں گے حرف تقدس کے اب گواہ
مجرم ہیں وہ بھی جو کہ ہیں لب بستہ زیرِ جور
پھر کیا گلہ جو ڈھاتے ہیں ایسوں پہ ظلم شاہ
اس خوش ادا کو دیکھ کے دل کا بیاں کیا
جاں پر بنی ہے لے کے ٹلیں گے جہاں پناہ
آزار
خار زارِ جہانِ بے تاثیر
اس کے احسان مند لوگوں کو
دائرے سے نکال کر باہر
خوش گماں ہے کہ جیسے جنت ہو
فاقہ کش سانس بیچنے والے
باغیوں کی صفوں سے دور کہیں
محبت میں فنا لازم
حقیقت ہے مگر سوچو
یہ کوری زندگی بھی
ایک دن انجام پائے گی
ہے کچی سانس کی ڈوری
یہ اک دن ٹوٹ جائے گی