Friday, 7 November 2014

جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے

جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے
کیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائے
عشق خود اپنے رقیبوں کو بہم کرتا ہے
ہم جسے پیار کریں جانِ زمانہ بن جائے
اتنی شدت سے نہ مل تُو کہ جدائی چاہیں
اور یہ قربت تری دوری کا بہانہ بن جائے
جو غزل آج تِرے ہجر میں لکھی ہے وہ کل
کیا خبر اہلِ محبت کا ترانہ بن جائے
کرتا رہتا ہوں فراہم میں زرِ زخم کہ یوں
شاید آیندہ زمانوں کا خزانہ بن جائے
اِس سے بڑھ کر کوئی انعامِ ہنر کیا ہے فرازؔ
اپنے ہی عہد میں اک شخص فسانہ بن جائے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment