Sunday, 16 November 2014

بعض کاموں کی تلافی نہیں ہوتی صاحب

بعض کاموں کی تلافی نہیں ہوتی صاحب
بے وفائی کی معافی نہیں ہوتی صاحب
ختم ہو جائے کسی آخری لمحے پہ مٹھاس
یہ محبت کوئی ٹافی نہیں ہوتی صاحب
ہر کوئی حسن نہیں دل میں اترنے والا
ہر کوئی آنکھ غلافی نہیں ہوتی صاحب
بے معانی ہو مگر اہلِ دلاں کے مابین
کوئی بھی بات اضافی نہیں ہوتی صاحب
عشق میں جیتنے والے کی سزا سولی ہے
عشق میں کوئی ٹرافی نہیں ہوتی صاحب
آ مجھے آ کے غزل گوئی کے چنگل سے نکال
اس قدر قافیہ بافی نہیں ہوتی صاحب

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment