Saturday, 2 January 2016

حق وفا کا جو ہم جتانے لگے

حق وفا کا جو ہم جتانے لگے
آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
تھا یہاں دل میں طعنِ وصلِ عدو
عذر ان کی زباں پہ آنے لگے
ہم کو جینا پڑے گا فرقت میں
وہ اگر ہمت آزمانے لگے
ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے
اب وہ باتیں بہت جتانے لگے
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم
ہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
جی میں ہے یوں رضائے پیرِ مغاں
قافلے پھر حرم کو جانے لگے
سرِ باطن کو فاش کر یا رب
اہلِ ظاہر بہت ستانے لگے
وقتِ رخصت تھا سخت حالیؔ پر
ہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment