بہت سے زخم بہت سے نشاں پڑے ہوئے ہیں
ہمیں تو ہوش نہیں ہم کہاں پڑے ہوئے ہیں
انہیں جگہ نہیں دیتے یہ سامنے والے
کئی ستارے پسِ آسمان پڑے ہوئے ہیں
مجھے تو صلح کی صورت نظر نہیں آتی
کہ خیر خواہ بہت درمیاں پڑے ہوئے ہیں
کفن بنیں گے تمازت گزیدہ لوگوں کے
بندھے بندھے یہ جو سائباں پڑے ہوئے ہیں
عجیب خامشی ہے تیرے بعد بستی میں
گماں گزرتا ہے خالی مکاں پڑے ہوئے ہیں
نہ وہم کر کہ سبھی خواب تیرے آنے تک
پڑے رہیں گے وہیں پر جہاں پڑے ہوئے ہیں
میں دیکھتا ہوں پسِ برگزیدگی شاہد
وہ داغ بھی جو نظر سے نہاں پڑے ہوئے ہیں
شاہد ذکی
No comments:
Post a Comment