ہو گیا ہے دل نشانہ جب سے اس کے تیر کا
عشق فرمانا یہاں، لانا ہے جوئے شیر کا
کر گیا پرواز وہ بھی اک پرندے کی طرح
حسن کے فتراک میں دم عشق کے نخچیر کا
روز ہوتی ہے چمن میں چاک پھولوں کی قبا
’کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا‘
فرشِ کاغذ پر خوشی سے رقص کرتا ہے قلم
معجزہ یہ بھی ہے اس کی شوخیٔ تحریر کا
سرخرو جو بھی متین آیا ہے اس کی بزم سے
شکر کرتا ہے ادا وہ کاتبِ تقدیر کا
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment