Thursday, 7 October 2021

بہت یاد آتے ہو جب شام کے سائے لہرائیں

 بہت یاد آتے ہو


جب شام کے سائے لہرائیں

جب دیپ گھروں میں جل جائیں

سب پنچھی گھروں کو جب جائیں

تب یاد بہت تم آتے ہو

تب یاد بہت تم آتے ہو

در آئے بہاروں کا موسم

بہکے نظاروں کا موسم

جب پھول کہیں پر کھل جائیں

جب گیت فضا میں گھل جائیں

جب ٹوٹے ہوئے دل مل جائیں

تب یاد بہت تم آتے ہو

تب یاد بہت تم آتے ہو

جب ہجر کا موسم چھایا ہو

اور ساتھ نہ اپنا سایا ہو

ہر سانس بھی لگتی مایا ہو

تب یاد بہت تم آتے ہو

تم یاد مجھے کیوں آتے ہو

تم یاد مجھے کیوں آتے ہو


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment