Thursday, 7 October 2021

ذرا دھیرے سے تم چلنا کہ یہ وہ آبگینے ہیں

 آبگینے


ذرا دھیرے سے تم چلنا

کہ یہ وہ آبگینے ہیں

کہ جو گھر بھر کی زینت بھی

کبھی ہو پیاس کی شدت

تو یہ پانی پلاتی ہیں

کبھی سورج کی ہو حدت

تو یہ سایہ بناتی ہیں

یہ ہیں آنگن کے تارے جو

ہمیشہ جگمگاتے ہیں

مکاں کو زر بناتے ہیں

انہی میں وہ قرینے ہیں

کہ یہ تو آبگینے ہیں

یہی آنکھوں کی ہیں ٹھنڈک

یہی ٹھنڈک بھی راحت بھی

انہی سے رونقِ محفل

انہی سے حرمتِ محمل

بھری شاداب دنیا میں

یہی سرسبز اک حاصل

یہی جنت کے زینے ہیں

کہ یہ ہے ماں،یہی بیٹی، یہی بہنا

یہی ہے ہاتھ کا گہنا

محاذوں پر جو نکلو تو

یہی پیروں کی بیڑی بھی

بنی پسلی سے ہے یہ

اس لیے تھوڑی سی ٹیڑھی بھی

مگر تم توڑ مت دینا

انہیں مستور ہی رکھنا

کہ عصمت کے نگینے ہیں

کہ یہ تو آبگینے ہیں

کبھی سوچا بھی ہے تم نے

یہ کتنا دُکھ اُٹھاتی ہیں

تمہاری زندگی کو

کس طرح شاداب بناتی ہیں

تمہاری راہ کے کانٹے

یہ چُن لیتی ہیں پلکوں سے

سفر آساں بناتی ہیں

سنور جائیں اگر

اک نسل کا ایماں بناتی ہیں

پھر ان معصوم کلیوں کو

یہی بصری، یہی سفیاں بناتی ہیں

کہ یہ تو آبگینے ہیں


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment