مٹ جائیں شب و روز کے ہنگام کسی روز
رہ جائیں فقط درد کے الہام کسی روز
دیکھیں گے سرِ دار تیرے شہرِ وفا میں
اس دردِ مسیحائی کا انجام کسی روز
خوابوں کے خیالوں کے یہ نایاب خزینے
ہو جائیں گے بازار میں نیلام کسی روز
اک حرفِ صداقت کو رقم کرنے کے موجب
ہونا ہے ہمیں شہر میں بدنام کسی روز
ہم جیسے غمِ ہجر کے ماروں کو کبھی تو
آئے گا تیرے وصل کا پیغام کسی روز
ساحل منیر
No comments:
Post a Comment