Tuesday, 4 January 2022

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں

ابھی ہے آغاز مستیوں کا شراب کے دور چل رہے ہیں

عجیب برسات کا سماں ہے نظر کو ہر وقت یہ گماں ہے

کہ حسن انگڑائی لے رہا ہے حسین کپڑے بدل رہے ہیں

ابھی جوانی پہ ہیں امنگیں دلوں میں ہیں سینکڑوں ترنگیں

جو دو چراغ آج بجھ رہے ہیں تو دس چراغ اور جل رہے ہیں

قدم قدم پر تھا خوف طوفاں جگہ جگہ تھا فنا کا ساماں

مگر رہے عشق تیری ہمت مرے ارادے اٹل رہے ہیں

سلگ رہے ہیں ابھی ہمارے دلوں کے آتش کدے مسلسل

جلا چکے تھے ابھی جو ہم کو اب ان کی باری ہے جل رہے ہیں

نہیں زمانے سے کوئی شکوہ ہمیں گلہ ہے تو صرف یہ ہے

تری نظر میں بھی ہم برنگ شکایت بے محل رہے ہیں

ہوئی سحر ختم پر ہے محفل اٹھو کہ افسرؔ اچاٹ ہے دل

نہ حسن میں اب وہ دل کشی ہے نہ زلف میں اب وہ حل رہے ہیں


افسر آذری

No comments:

Post a Comment