Sunday, 20 February 2022

ہوا کی زد پہ لرزاں بادباں ہے

 ہوا کی زد پہ لرزاں بادباں ہے

سمندر میں مگر کشتی رواں ہے

پروں کو کاٹ کر کہتا ہے تیری

حدِ پرواز لے اب آسماں ہے

چراغِ آرزو بجھنے لگے ہیں

نظر جس سمت پھیروں بس دھواں ہے

سنبھل کر موجِ دریا کہ ہمارا

سمندر کے کنارے آشیاں ہے

تمہارا ہاتھ ہے ہاتھوں میں جب سے

کوئی شۓ اب نہ حائل درمیاں ہے

ہے يوں تو موسمِ رنگیں بہاراں

تمہارے بن مگر چھائی خزاں ہے

ہے آمد کس پری پیکر کی الماس

فلک کا چاند کس پر ضو فشاں ہے


الماس کبیر جاوید

No comments:

Post a Comment