لوگ سب رنجور تھے آسودگی ہوتی نہ تھی
جب کہیں بھی دور تک آوارگی ہوتی نہ تھی
پھول سارے دیر تک کِھلتے تھے باغِ دہر میں
مسئلہ در پیش یہ تھا تازگی ہوتی نہ تھی
قہوہ خانے سے جڑی یہ سامنے جو میز ہے
بات چلتی تھی یہاں پر خامشی ہوتی نہ تھی
جب نمائش ہو رہی تھی اس نے بُت کو چُھو لیا
اس سے پہلے اس بدن میں زندگی ہوتی نہ تھی
سب زمینیں بانجھ تھیں خاموشیوں کا راج تھا
اس دیارِ عشق میں جب شاعری ہوتی نہ تھی
یہ رقابت، یہ فسانے بعد کی تفصیل ہیں
خوش نمائی خواب تھی جب دلکشی ہوتی نہ تھی
اب یہ کمرہ اک نئی تصویر سے منسوب ہے
پہلے وحشت تھی یہاں لیکن ہنسی ہوتی نہ تھی
عشق سے پہلے مِرے افکار میں ٹھہراؤ تھا
پہلے ان حالات میں مجھ پر بنی ہوتی نہ تھی
رضا حسن فاروق
No comments:
Post a Comment