ابرو کا وار اور دل بے قرار پر
کیوں رکھ لیا غریب کو خنجر کی دھار پر
اس برق وش نے ہنس کے مِرے حال زار پر
بجلی گرائی خِرمنِ صبر و قرار پر
سنیے تو کچھ نہیں یے برا ماننے کی بات
دل دے تو کوئی آپ کو کس اعتبار پر
ابرو کا وار اور دل بے قرار پر
کیوں رکھ لیا غریب کو خنجر کی دھار پر
اس برق وش نے ہنس کے مِرے حال زار پر
بجلی گرائی خِرمنِ صبر و قرار پر
سنیے تو کچھ نہیں یے برا ماننے کی بات
دل دے تو کوئی آپ کو کس اعتبار پر
حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے
مجھے طواف نہیں وصل کی سہولت دے
مدار< قید ہے گردش سے تنگ آ گیا ہوں
طواف چھوڑ کے آؤں مجھے اجازت دے
درشت لہجے میں خود سے کلام کر یارم
لذیذ لہجے سے خود کو بھی تھوڑی لذت دے
جلوے دکھائے یار نے اپنی حریمِ ناز میں
سجدے چمک چمک اٹھے میرے سرِ نیاز میں
جلوۂ دید میں تِری شعلۂ طُور تھا نہاں
آگ سی اور لگ گئی میرے دلِ گداز میں
شوق نے کھیچ لی مِرے یار کی جب نقابِ رخ
حسن کی روشنی ہوئی جلوہ گہہ مجاز میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ کو چُھوتا ہے خدا نرم ہواؤں کی طرح
ساتھ دھڑکن کے تعلق ہے وفاؤں کی طرح
روز کِرنوں سے منور مِرے دروازے پر
مجھ کو روشن نظر آتا ہے فضاؤں کی طرح
سرد موسم میں مِری روح کی تنہائی میں
ساتھ رہتا ہے مِرے ساتھ رِداؤں کی طرح
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شبِ معراج
بتا رہی ہیں ضیائیں یہاں سے گزرے ہیں
حضورؐ کیا روشِ کہکشاں سے گزرے ہیں
ہوئے ہیں آج وہﷺ عنوانِ داستانِ جمال
وگرنہ یوں تو ہر اِک داستاں سے گزرے ہیں
ہر ایک بزم میں کہتے ہیں فخر سے جبریلؑ
حضورؐ خاص مِرے آشیاں سے گزرے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے خوفِ خدا انؐ کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
اِلّا کو اگر لا سے جدا کہہ نہیں سکتے
حق بات بہ اندازِ ثناء کہہ نہیں سکتے
وہ ذات جو مطلوب ہے، طالب بھی، طلب بھی
کہنا جو اسے چاہیں تو کیا کہہ نہیں سکتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طُورِ سِینا
میری آرزو محمدﷺ مِری جستجو مدینہ
میں گدائے مصطفٰیؐ ہوں مِری عظمتیں نہ پوچھو
مجھے دیکھ کر جہنم کو بھی آ گیا پسینہ
مجھے دشمنوں نہ چھیڑو مِرا ہے جہاں میں کوئی
میں ابھی پکار لوں گا، نہیں دور ہے مدینہ