ہر احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے
سکوں اسی میں ہے در اصل آدمی کے لیے
غم و خوشی سے پرے ہو گی جب نظر تیری
کبھی نہ ترسے گا لمحاتِ زندگی کے لیے
یہ فیضِ علم و ہنر اور ضیائے شمس و قمر
طلب اگر ہو تو کافی ہے روشنی کے لیے
ہر احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے
سکوں اسی میں ہے در اصل آدمی کے لیے
غم و خوشی سے پرے ہو گی جب نظر تیری
کبھی نہ ترسے گا لمحاتِ زندگی کے لیے
یہ فیضِ علم و ہنر اور ضیائے شمس و قمر
طلب اگر ہو تو کافی ہے روشنی کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سوال
خزاں گزیدہ ہوں صبر و قرار دے ربی
مِرے چمن کو متاعِ بہار دے ربی
زمیں کی کوکھ سلگتی ہے ایک مدت سے
کرم کی بارشیں اب تو اتار دے ربی
مِرے لہو میں اناؤں کی آگ روشن رکھ
میں زندہ ہوں یہ مجھے اعتبار دے ربی
سینے میں اس کے اک دل درد آشنا تو ہے
وہ فلسفی نہیں ہے مگر سوچتا تو ہے
تازہ ہوا سے کہہ دو چلی آئے بے خطر
در بند ہے ضرور دریچہ کھلا تو ہے
قسمت پہ ناز کیوں نہ کروں مدتوں کے بعد
تم سا رہِ حیات میں ساتھی ملا تو ہے
نہیں ہے گرچہ خزاں، پھول دستياب نہیں
لگا دو آگ، جہاں پھول🎕 دستياب نہیں
یہ دشتِ دل ہے یہاں صرف ریت اگتی ہے
وگرنہ آج کہاں پھول🎕 دستياب نہیں
میں سارے شہر کا چکر لگا کے آیا ہوں
کسی جگہ پہ یہاں پھول🎕 دستياب نہیں
پچھلے زخموں کا ازالہ نہ ہی وحشت کرے گا
تجھ سے واقف ہوں مِری جاں تو محبت کرے گا
میں چلا جاؤں گا دنیا سے سکندر کی طرح
اگلی صدیوں پہ مِرا نام حکومت کرے گا
دل تِری راہ اذیت سے پلٹنے کو ہے
کیا تو اب بھی نہ مِرا خواب حقیقت کرے گا
مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے
نوکِ نیزہ سے مِرا سر نہ اتارا جائے
شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا
سورج اک بار مِرے دل سے گزارا جائے
اس کی یہ ضد کہ مِرا قتل پس پردہ ہو
مِری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے
یہ نہ سمجھو ضبطِ غم سے دم مِرا گھٹتا نہیں
گھر سے باہر کیسے نکلوں، کوئی دروازہ نہیں
تپ کے غم کی آگ میں جب تک کہ دل نکھرا نہیں
اس نے اپنے درد کے قابل مجھے سمجھا نہیں
شہرِِ دل میں آج کل ہے اس قدر گہرا سکوت
جیسے اس بستی میں کوئی آدمی رہتا نہیں