یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں، بہار میں تُو
مگر یہ فصلِ ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سنائے جاتے ہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں
فرازؔ! اپنی جگر کاریوں پہ ناز نہ کر
فرازؔ! اپنی جگر کاریوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاعِ ہنر بھی سدا کسی کی نہیں
احمد فراز
No comments:
Post a Comment