Thursday, 6 November 2014

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے، یُوں ہے
یُوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یُوں ہے، یُوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو سِتادہ کب سے
ایک سایہ نہ دَروُں ہے نہ بِروُں ہے، یُوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جُنوں ہے، یُوں ہے
اب تم آئے ہو مِری جان! تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطُم نہ سُکوں ہے، یُوں ہے
ناصحا! تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے، سمجھاتا ہے، یُوں ہے، یُوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار، فرازؔ
یہ بھی اِک سلسلہ کُن فَیَکُوں ہے، یُوں ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment