Sunday, 16 November 2014

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا

رخصت ہوا تو بات مِری مان کر گیا
جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اِک عزیز دوست
اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا
کتنی سُدھر گئی ہے جدائی میں زندگی
ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا
خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
وہ شخص آخِرش مجھے بے جان کر گیا

خالد شریف

No comments:

Post a Comment