Sunday, 16 November 2014

یہی کرو گے کہ اب ہم سے تم ملو گے نہیں

یہی کرو گے کہ اب ہم سے تم ملو گے نہیں
جو بات دل نے کہی تھی اسے سنو گے نہیں
وہ زخم ڈھونڈ رہا تھا ہنسی لئے لب پر
ہر اک سے پوچھتا پھرتا تھا کچھ کہو گے نہیں
وہ داستاں جسے سنتے تھے روز ہنس ہنس کر
کبھی ہم سے جو سنو گے تو پھر ہنسو گے نہیں
سمجھ رہے ہو کہ کچھ بھی نہیں ہوا خالدؔ
مگر یہ چوٹ ہے ایسی کہ تم بچو گے نہیں

خالد شریف​

No comments:

Post a Comment