Wednesday, 5 October 2016

وہ خوش رو جب نہیں ہو گا تو یہ سب کون دیکھے گا

وہ خوشرُو جب نہیں ہو گا تو یہ سب کون دیکھے گا
ہمارے دل پہ جو گزرے گی، یا رب! کون دیکھے گا
بجھی جاتی ہیں شمعیں درد کی، آہستہ، آہستہ
کسی کے روٹھنے کا یہ نیا ڈھب کون دیکھے گا
اجڑتا جا رہا ہے موسمِ دل کا ہر اِک منظر
اب اس دل کی طرف کیا جانئے، کب، کون دیکھے گا
پرائے غم کی چوکھٹ سے لگی بیٹھی ہے تنہائی
سو اس کے نیم رُخ پر غازۂ شب کون دیکھے گا
نمُودِ صبح کا اعلان تو کر جائے گا تارہ
مگر اِک عمرِ کم آثار کی چھَب کون دیکھے گا
بکھرتا جا رہا ہوں آئینہ در آئینہ، خاورؔ
مگر کس کیلئے، یہ زاویے اب کون دیکھے گا

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment