ان سے بھی میرے درد کا درماں نہ ہو سکا
بندہ، کسی کا بندۂ احساں نہ ہو سکا
دنیا میرے لیے جو پریشاں ہوئی تو کیا
ہونا تھا جس کو وہ تو پریشاں نہ ہو سکا
عالم تمہاری زلفِ پریشاں کا ہائے ہائے
بھڑکاتی کیوں نہ آتشِ دل باغ کی بہار
جانِ بہار تُو ہی خراماں نہ ہو سکا
جھوٹا بھی وعدہ آپ صفیؔ سے نہ کر سکے
اتنا بھی اس غریب پہ احساں نہ ہو سکا
صفی اورنگ آبادی
No comments:
Post a Comment