دشمن جلیں بھی اپنا تو مطلب نکل گیا
قسمت سے بات بن بھی گئی، داؤ چل گیا
دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا
اچھا ہوا خلش گئی، کانٹا نکل گیا
تعریفِ حسنِ یار نے اس کو کِیا رقیب
وہ جلوہ گاہِ ناز ہو، یا بزمِ غیر ہو
جنت ہمیں وہیں ہے جہاں دل بہل گیا
انجامِ عشق دیکھ لیا اپنی آنکھ سے
اب تو صفیؔ دماغ سے تیرے خلل گیا
صفی اورنگ آبادی
No comments:
Post a Comment