Sunday, 4 December 2016

دشمن جلیں بھی اپنا تو مطلب نکل گیا

دشمن جلیں بھی اپنا تو مطلب نکل گیا
قسمت سے بات بن بھی گئی، داؤ چل گیا
دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا
اچھا ہوا خلش گئی، کانٹا نکل گیا
تعریفِ حسنِ یار نے اس کو کِیا رقیب
رہبر بھی بیچ رستے میں ہم سے بدل گیا
وہ جلوہ گاہِ ناز ہو، یا بزمِ غیر ہو
جنت ہمیں وہیں ہے جہاں دل بہل گیا
انجامِ عشق دیکھ لیا اپنی آنکھ سے
اب تو صفیؔ دماغ سے تیرے خلل گیا

صفی اورنگ آبادی

No comments:

Post a Comment