تیس دن کے لیے ترکِ مے و ساقی کر لوں
واعظِ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں
پھینک دینے کی کوئی خیر نہیں فضل و کمال
ورنہ حاسد تِری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں
اے نکیرین! قیامت ہی پر رکھو پرسش
میں ذرا عمر گزشتہ کی تلافی کر لوں
کچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک ہو جائے
تم خفا ہو تو اجل ہی کو راضی کر لوں
اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۂ دل
غم سے مانا بھی کہ اس گھر کو میں خالی کر لوں
دل ہی ملتا نہیں سفلوں سے، وگرنہ شبلیؔ
خوب گزرے فلک دوں سے جو یاری کر لوں
شبلی نعمانی
No comments:
Post a Comment