تان سازِ درد کی درد آشنا تک جائے گی
بات بندے کی بہرصورت خدا تک جائے گی
جان سے جائے گا میرے ساتھ جو بھی آئے گا
میری غیرت مجھ کو لے کر کربلا تک جائے گی
بات میری سرخئ خون کی سرِ بزمِ وفا
جب بھی چل نکلی تیرے رنگِ حنا تک جائے گی
خسروِ شہرِ جمال آئے گا سُوئے گلستاں
خیر مقدم کے لیے بادِ صبا تک جائے گی
پاسبانی دِین کی بنتِ نبیﷺ کرتی گئی
جانتی بھی تھی مِرے سر سے رِدا تک جائے گی
میری بخشش ناز کچھ مشکل نہ ہو گی حشر میں
جب میری فردِ عمل مشکل کشا تک جائے گی
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment