Wednesday, 2 June 2021

رات جس وقت سو رہی تھی کہیں

 رات جس وقت سو رہی تھی کہیں

کچھ نئی بات ہو رہی تھی کہیں

تشنگی تھی ہمارے ہونٹوں پر

اور برسات ہو رہی تھی کہیں

صحنِ زنداں میں ایک تنہا رات

یونہی خاموش رو رہی تھی کہیں

سج رہی تھی شفق کسی جانب

اور اک رات ہو رہی تھی کہیں

جشن برپا تھا دل کے کوچوں میں

رات چپ چاپ سو رہی تھی کہیں


جگدیش پرکاش

No comments:

Post a Comment