جانے کا محفلوں میں کبھی من نہیں ہوا
دل کش اسی لیے تو لڑکپن نہیں ہوا
بارش میں کاغذوں کی بناتے تھے کشتیاں
یادوں سے دور اب بھی وہ بچپن نہیں ہوا
افسوس ظلمتوں کے اندھیرے ہیں چار سُو
"بستی میں اک چراغ بھی روشن نہیں ہوا"
اس دل میں اب کسی کی بھی کوئی جگہ نہیں
یہ دل کسی کے واسطے مسکن نہیں ہوا
تم جانتے ہو دوستی کس شےکا نام ہے
بس ہاتھ ملا لینا تو بندھن نہیں ہوا
ارم شفیق
No comments:
Post a Comment