Saturday, 16 October 2021

بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیں

بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیں

ہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیں

ہم ایسے لوگ دیواروں پہ ہنسنے کے نہیں قائل

مگر جب جی میں آتا ہے تو دروازوں پہ ہنستے ہیں

دِوانہ کر گیا آخر ہمیں فرزانہ پن اپنا

کہ جن لوگوں کو رونا تھا ہم ان لوگوں پہ ہنستے ہیں

اب اس کو زندگی کہیۓ کہ عہد بے حسی کہیۓ

گھروں میں لوگ روتے ہیں مگر رستوں پہ ہنستے ہیں

یہاں اپنا پرایا کچھ نہیں خوشبو پہ مت جاؤ

گلوں میں پڑنے والے پھول گلدستوں پہ ہنستے ہیں

سمجھنے والے کیا کیا کچھ سمجھتے ہیں شرر صاحب

رگ معنی پھڑکتی ہے تو ہم لفظوں پہ ہنستے ہیں


کلیم حیدر شرر

No comments:

Post a Comment