Saturday, 2 October 2021

جو بھی زندہ ہے یہاں قتل کیا جائے گا

 جو بھی زندہ ہے یہاں قتل کیا جائے گا

دیکھیۓ مجھ کو کہاں قتل کیا جائے گا

ہونٹ سی لوں تو یہ ممکن ہے کہ مہلت مل جائے

کھولتا ہوں جو زباں،۔ قتل کیا جائے گا

مجھ کو آثار بتاتے ہیں یہ بستی ہے جہاں

مرد و زن پیر و جواں قتل کیا جائے گا

وہ سوالات نئی نسل میں جی اٹھیں گے 

جن کو بھی زیرِ زباں قتل کیا جائے گا 

ایسی بستی کی تباہی تو اٹل ہے مظہر

بے گناہوں کو جہاں قتل کیا جائے گا 


مظہر سید

No comments:

Post a Comment