مِرے لہو کی تمازت ہے اور اکیلا میں
اندھیری شب کی مسافت ہے اور اکیلا میں
مِرے قبیلے میں بھی سچ کا قتل ہوتا ہے
وہی پرانی روایت ہے، اور اکیلا میں
نئے شعور کا انسان مجھ میں زندہ ہے
زمانے بھر کی ملامت ہے اور اکیلا میں
میں اپنی جنگ میں ناکام ہو نہیں سکتا
مِرے خیال کی طاقت ہے اور اکیلا میں
تلاش کا یہ سفر اتنا سہل بھی تو نہیں
کوئی بلا کوئی دہشت ہے اور اکیلا میں
مِری غزل یہ مِرا فن یہ شاعری شوکت
نئے دنوں کی بشارت ہے اور اکیلا میں
شوکت ہاشمی
No comments:
Post a Comment