جاتے جاتے وہ مِری اک اک نشانی لے گیا
جانے والا ساتھ جذبوں کی روانی لے گیا
دے گیا مجھ کو فقط یادوں کے دھندلے سے نقوش
وقت میرا بچپنا میری جوانی لے گیا
خشک پتے رہ گئے اب اس کتابِ زیست میں
موسمِ ہجراں سبھی یادیں پرانی لے گیا
دے گیا ہونٹوں پہ چُپ حسرت کے اشکوں سے گندھی
ایسے بچھڑا میری ساری خوش گمانی لے گیا
ڈھیر ہوتی ریت سا کس کام سا میرا وجود
مجھ کو لگتا ہے وہ میری زندگانی لے گیا
سیپیوں سے لفظ خالی رہ گئے ہیں میرے پاس
لفظ خالی رہ گئے ہیں وہ معانی لے گیا
دے گیا عہدِ خزاں کی زردیاں فرحت مجھے
میری آنکھوں کی وہ رنگت آسمانی لے گیا
فرزانہ فرحت
No comments:
Post a Comment